![]() |
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم |
سقراط کو اس دنیا سے گئے ہوئے تقریبا اڑھائی ہزار سال ہوگئے
اس کے شاگرد افلاطون کو ہلاک ہوئے 2364 سال بیت گئے۔
ارسطو کو اس دنیا سے کوچ کئے ہوئے 2338 سال ہوگئے۔
حب کہ اللہ تعالٰی کے ہر لحاظ سے آخری نبی کریم حضورﷺ کے کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ابھی محض 1434 برس ہوئے ہیں,

مگر دیسی اور ولائیتی لبرلز کے ہاتھ اور بد دماغ کی صفائی تو دیکھیں۔ یہ آپ کو جگہ جگہ سقراط، افلاطون اور ارسطو وغیرہ کی گئی گزری اور فرسودہ باتیں کوٹ کرتے ہوئے تو نظر آئیں گے مگر ان کے قول و فعل اور قلم اور زبان سے کبھی قرآن کریم کی کسی آیت یا حضورﷺ کے کسی فرمان کا حوالہ آپ کو نہ ملے گا۔ بلکہ وہ الٹا حقارت سے یہ کہتے ہوئے پائے جائیں گے کہ یہ سب فرسودہ اور پرانے وقتوں کی باتیں ہیں جن کا آج کے دؤر میں چلنا ممکن نہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گزرے وقتوں کے فلسفیوں سے منسوب باتوں کی کوئی ضمانت اور گارنٹی نہیں کہ آیا وہ انہوں نے کہی تھیں کہ نہیں جب کہ قرآن کی ایک ایک آیت اور حضورﷺ کے فرامین اور احادیث ہائے مبارکہ و سیرت اطہر، کئی کئی راویوں جید اور مستند ترین مسلمانوں کے ذریعہ اس طرح محفوظ ہوکر ہم تک پنہچے ہیں کہ جیسے ہم خود حضورﷺ اور ان کےاصحاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں.

Socrates departed from this world nearly 2,500 years ago, and his disciple Plato passed away 2,364 years ago. Aristotle left this world approximately 2,338 years ago. However, it has only been 1,434 years since the beloved Prophet Muhammad (peace be upon him) departed this transient abode. Despite the clarity in the teachings of Allah and the last Prophet, certain local and liberal minds choose to dismiss them. They may scrutinize the words of Socrates, Plato, and Aristotle, but you'll seldom find any reference to a verse from the Quran or a command of the Prophet in their discussions. Instead, they belittle and claim these teachings belong to a bygone era, despite the guarantee and preservation of every verse and saying of the Quran, as well as the pure biography of the Prophet, through numerous authentic narrations from trustworthy Muslim sources. These sources ensure that we receive these teachings just as we witness the Prophet and his companions ourselves.
